(کیا جدید تعلیم خاندانی اقدار کو خراب کر رہی ہے ؟ ( ازکیٰ اضغر

(کیا جدید تعلیم خاندانی اقدار کو خراب کر رہی ہے ؟ ( ازکیٰ اضغر

(This Essay got 1st prize in Gold Falcon Essay Contest 2018.)

 خوش تو ہیں ہم جوانوں کی ترقی سے مگر                 لبِ خنداں سے نکل جاتی ہے فریاد بھی ساتھ
گھر میں پرویز کے شیریں تو ہوئی جلوہ نما                لے کے آئی ہے مگر تیشۂ فرہاد بھی ساتھ

!بقول اقبال
جو کہ ایک دُور اندیش انسان تھے ۔جدید تعلیم کے اثرات جو زہر کی طرح معاشے میں موجود انسانوں کو ترقی دینے کے ساتھ ساتھ کسی اور ہی ڈگر پر چلالے گئی۔
جس طرح سے ہر انسان کی تربیت کے لیے علم حاصل کرنا بہت ضروری ہے کیونکہ آج کا انسان نئی سوچ نئی سائنسی ایجادات نئی تعلیمی ترقی کو پسند کرتا ہے اور نئے انداز کو اپنانے کے لیے ترجیح دیتا ہے ۔ لیکن ان تمام ضوابط کو مدنظر رکھتے رکھتے خاندانی اقدار کو کہ ہی انسان بھول بیٹھے ہیں۔
بڑے سے بڑے عظیم انسان کی زندگی پر اگر ہم نظر ڈالیں تو ہی اس بات کا علم ضرور ملے گا ۔ کہ اُس انسان کے اوپر اپنے خاندانی اقدار کا کتنا اثر تھا۔
انسان اپنے اصل کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے
قرآن اس بات کی تردید آج سے چودہ سو سال پہلے کر چکا ہے۔ کہ ’’ یَرْجِعُ اِلیٰ اصل‘‘ ( انسان اپنے اصل پر جاتا ہے۔
سائنسی ترقی اور جدید تعلیم تربیت تو دے سکتی ہے لیکن انسان کو اپنے اصل سے الگ نہیں کر سکتی اور آج کل لوگوں نے قرآن کی اس بات کو بُھلا کر جدید تعلیمی سکالرز کی باتوں پر عمل کرنا شروع کر دیا ہے۔ اور خاندانی اقدار کو بھلا بیٹھے ہیں
جدید تعلیم جہاں ہمیں بے تحاشہ فائدے دیتی ہے وہاں یہ ہمارے لیے بہت نقصان بھی دے رہی ہے اگر جدید تعلیم ہمیں اپنے آپ کو پیروں پر کھڑا ہونا سکھاتو دیتی ہے لیکن اگر انسان جدید تعلیم کے ساتھ اپنے آپ کو آئینے میں دیکھ لے تو اپنے پاؤں نظر نہیں آئیں گے۔کیونکہ تعلیم نے تو کھڑا ہونا سکھایا ہے لیکن اپنے آپ کو کس طرح توازن کے ساتھ پاؤں کے بل کھڑا ہونا ہے کہ صر ف خاندانی اقدار ہی سکھاسکتی ہیں ۔کھڑے ہونے کی جگہ اور اپنے آپ کو آئینے میں کس کس طرح سے دیکھنا ہے یہ تمام باتیں خاندانی اقدار ہی سکھا سکتی ہیں۔
نئی تعلیم نے آج کل کے طلباء اور معاشرتی لوگوں کو قرآن کی تعلیمات سے دور کر دیا ہے جو دین نبیؐ کے ذریعے سے ہمیں ملا تھا ۔ اُس دین کی مکمل باتوں پر دوسرے ملکوں یعنی یورپ اور غیر مذاہب نے عمل کرنا شروع کر دیا ہے اور مسلمان ہونے کے ناطے خاندانی اقدار کو بھول گئے ہیں ۔
سچ تو یہ ہے کہ آج کا طالب علم اپنا وجود کھو بیٹھا ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ طلباء پر قوم کی تقدیر کا انحصار کیا جاتا تھا چونکہ وہ طالب علم اپنی خاندانی روایات اور قرآن کی راہنمائی میں صاف گو ،وطن پست اور عزم صمیم کے مالک تھے ۔ مں باپ کے جذبات کا احساس کرتے تھے۔
اور ان کی امیدوں پر اُترنا فرض اولین سمجھتے تھے لیکن آج کے انسانوں خصوصاً طالب علم کی حیثیت کاغذکے اس پُرزے کی سی ہے کہ جدھر کی ہوا آئی اُڑا لے گئی جس کے ہاتھ آیا جیسے چاہا موڑ دیا طالب کے معنی طلب کرنیوالا مانگنے والا اور چاہنے والا کے ہیں۔
پہلے پہل طالب علم کو پروانے سے تشبہیہ دی جاتی تھی اور آج کا طالب علم نئی سوچ کے ساتھ خود شمع بن کر دوسروں کو اپنی تاپش سے جلانا چاہتا ہے۔ آج کی جدید تعلیم نے بچوں کو مروت لحاظ ختم کر دیا ہے آج کی تعلیم اپنے اساتذہ اور والدین کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر تے ہیں۔
احترامِ آدمیت ختم ہوتی جارہی ہے کیونکہ بچے سمجھتے ہیں کہ ہم نئی نسل یوں ہی آگے بڑھ سکتے ہیں۔
آج کی تعلیم نے مادر ڈے ، فادرڈے اور ویلنٹائن ڈے تو سکھا دیا ہے۔ لیکن یہ باتیں کاغذوں کے پرزوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔نئی تعلیم والدین سے دور کر رہی ہے۔
اگر ہم اپنے طور طریقوں کو دیکھیں تو بچے بچیاں سارا سارا دن کمپیوٹر ز ، موبائل ، ٹی وی کے آگے بیٹھ کر اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں ۔ اچھی باتوں کو کم اور بُری باتوں کو زیادہ اپناتے ہیں ۔نئی تعلیم میں جہاں نیٹ مدد دیتا ہے تو دوسری طرف معاشرے کے بگڑ نے میں مدد دے رہی ہے۔ موبائل کے استعمالات بڑھتے جارہے ہیں اور والدین کے پوچھنے پر بتایا جاتا ہے کہ ہم پڑھ رہے ہیں ہمیں تنگ نہ کیا جائے۔
خاندانی اقدار کو اپنانے والا انسان بے راہ روی کا شکار نہیں ہوتا۔ اُسے صحیح راستے کو اپنانے کے لیے والدین اور گھر کے بزرگوں اور اساتذہ کی سرپرستی حاصل ہوتی ہے۔اور دوسری طرف جو بچے خاندانی اقدار کو نہیں اپناتے وہ اپنی آوارہ گردی کی وجہ سے والدین کے ہاتھوں سے نکل جاتے ہیں تو ان کے لیے اولاد کی نالائقی اور موت دونوں یکساں ہیں۔

Written By:

Azka Asghar (Class 9th)

Fizaia Inter College Jinnah Camp, Rawalpindi

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *